امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا پڑوسی کی خدمت کا واقعہ


حضرت امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کے محلے میں ایک موچی رہتا تھا ۔ جو نہایت رنگین طبع اور خوش مزاج تھا ... اس کا معمول تھا ... کہ دن بھر محنت مزدوری کرتا ... شام کو بازار جا کر گوشت اور شراب مول لاتا ... کچھ رات گئے دوست واحباب جمع ہوتے..خود سیخ پر کباب لگاتا، خودکھاتا، یاروں کو کھلا تا ..خوب شراب کا دور چلتا اور مزے میں آ کر شعر گاتا ...


اضاعونی و ای فتی اضاعوا

ليومه كريهته وسد ادثغر


یعنی لوگوں نے مجھ کو ہاتھ سے کھو دیا ... اور کیسے بڑے شخص کو کھویا ... جو لڑائی اور رخنہ بندی کے دن کام آ تا ... امام صاحب ذکر و شغل کی وجہ سے رات کو بہت کم سوتے تھے ... رات کو اس کی نغمہ سنجیاں سنتے اور کچھ تعرض نہ کرتے ... ایک رات ایسا ہوا کہ شہر کا کوتوال ادھر آ نکلا اور اس کو گرفتار کر کے لے گیا ... اور قید خانہ میں بھیج دیا ... صبح کو امام صاحب نے دوستوں سے تذکرہ کیا کہ گزشتہ رات ہمارے ہمسائے کی آواز نہیں آئی ... نہ معلوم کیا وجہ ہوئی ... لوگوں نے رات کا تمام ماجرا بیان کر دیا ... کہ وہ غریب تو قید خانہ میں ہے ... آپ نے اسی وقت سواری طلب کی ..اور دربار کے کپڑے پہنان کر دارالامارۃ کی طرف روانہ ہوگئے کوفہ کے گورنر کو لوگوں نے اطلاع دی کہ امام ابوحنیفہ آپ سے ملنے آۓ ہیں ... اس نے یہ سنتے ہی آپ کے استقبال کے لیے اپنے درباریوں کو بھیجا ... جب آپ کی سواری نزدیک آئی تو گورنر خود بھی تعظیم کے لیے اٹھا..اور نہایت ادب واحترام سے لاکر بٹھایا اور عرض کیا، آپ نے کیوں تکلیف فرمائی . مجھے بلاوا بھیج دیتے میں خود حاضر ہو جاتا، آپ نے فرمایا ہمارے محلے میں ایک موچی رہتا تھا ... کوتوال نے اس کو گرفتار کرلیا ہے ... میں چاہتا ہوں کہ وہ رہا کر دیا جاۓ ... گورنر نے اسی وقت حکم بھیجا اور اسے رہا کردیا گیا ... امام صاحب عیسٰی گورنر سے رخصت ہوکر چلے ... تو وہ موچی بھی ہم رکاب ہو گیا ... امام صاحب نے اس سے مخاطب ہوکر فرمایا . کیوں ہم نے تم کو ضائع تو نہیں کیا ... اس نے عرض کیا نہیں آپ نے حق ہمسائیگی خوب ادا کیا، امام صاحب کے اس خلق ومروت کا اس کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے عیش پرستی سے توبہ کی اور امام صاحب کے حلقہ درس میں بیٹھنے لگا ..رفته رفتہ علم و فقہ میں مہارت حاصل کی اور فقیہ کے لقب سے ممتاز ہوا .

نوٹ : یہ واقعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی لکھی گئی کتاب "سخی لوگ" سے لیا گیا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے