صدقے کی برکت سے کٹے ہاتھ درست ہونے کا عجیب واقعہ


حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی رعایا سے کہہ دیا تھا کہ اگر کسی نے صدقہ خیرات کیا تو اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا... لوگ مارے ڈر کے صدقہ نہیں کرتے تھے چنانچہ ایک شخص عورت کے پاس آیا اور کہا مجھ پر کچھ خیرات کرو ، اس عورت نے کہا کیسے خیرات کروں ، بادشاہ تو جو بھی صدقہ خیرات کرتا ہے اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ہے ... اس نے کہا اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں مجھے کچھ خیرات کرو ۔ چنانچہ عورت نے اسے دوروٹی صدقہ کر دیا ... بادشاہ نے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا ... (دنیا میں ایسے ظالم لوگ بھی ہوتے ہیں جو نیکی اور بھلائی پر سزا دیتے ہیں) ادھر بادشاہ نے اپنی ماں سے کہا کوئی خوبصورت عورت تلاش کرو کہ میں اس سے شادی کروں ... اس نے کہا ایک عورت تو تھی جو اپنے حسن میں نظیر نہیں رکھتی تھی لیکن اس میں ایک سخت عیب ہے . بادشاہ نے کہا کیا عیب ہے ؟ کہا اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہیں... بادشاہ نے صدقہ کی وجہ سے ہاتھ کاٹ دیئے تھے بادشاہ نے جب اسے دیکھا تو وہ پسند آ گئی ... بادشاہ نے اس سے شادی کی اجازت چاہی .. وہ راضی ہوگئی اور شادی ہوگئی ... بادشاہ اس کے ساتھ رہنے لگا . اس کا دوسری سوکنوں کو حسد ہوا ... (سوکنوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی) بادشاہ ایک موقع پر دشمن کے ساتھ قتال کے لیے نکلا تو سوکنوں نے بادشاہ کو خط لکھ دیا کہ میگورت فاجرہ ہے اس نے بچہ جنا ہے (حرامی) ... بادشاہ نے ماں کولکھا کہ اس کی گردن پر بچے کو لاد کر اس کو مارے اور گھر سے جنگل نکال دے ... چنانچہ ماں نے اسے بلایا ، بچے گو گردن پر لاد کر اسے جنگل کی طرف نکال دیا ... وہ اپنے بچے کے ساتھ ایک نہر کے پاس سے گزری تو پانی پینے اتر گی ، بچے کو گردن سے اتارا ، بچہ پانی میں گر گیا ، تو وہ رونے گی ... اس درمیان دو آدمیوں کا گزر ہوا انہوں نے اس سے پوچھا کیوں رورہی ہو ؟ کہا میرا لڑکا گردن سے گر کر پانی میں چلا گیا اور ڈوب گیا ، ان دونوں نے کہا نکال دیں ، کہاہاں نکال دو ... ان دونوں نے دعا کی ، بچہ پانی سے نکل گیا اور ماں کے پاس چلا آیا ، ان دونوں نے کہا ، تمہارے یہ دونوں ہاتھ درست کردیں ... کہا ہاں ... چنانچہ ان دونوں نے دعا کی ، عورت کے دونوں ہاتھ درست ہو گئے .. پھر ان دونوں نے اس سے کہا تمہیں پتہ ہے ہم کون ہیں ؟ عورت نے کہا نہیں ، تو انہوں نے کہا ہم تمہاری وہ دونوں روٹی ہیں جسے تم نے صدقہ کیا تھا ...

 فائدہ : دیکھئے کیسا تعجب خیز اور صدقہ کی برکت کا عجیب واقعہ ہے ... روٹی کے صدقہ کی وجہ سے اس کے ہاتھ کاٹے گئے .. صدقہ کی ان دوروٹیوں کو اللہ پاک نے انسانی شکل میں کر دیا اور اس نے عورت کا تعاون کیا ، بچہ نکالا ، ہاتھ ٹھیک کر دیے ... اعمال کا شکلوں میں متشکل ہونا احادیث سے ثابت ہے ... تلاوت کا بادلوں کی شکل میں متشکل ہونا ترمذی کی حدیث میں ہے.برزخ میں برے اعمال سانپ بچھو کی شکل میں متشکل ہو جائیں گے ...(۱۷۲)پس آدمی کو چاہیے کہ صدقہ خیرات سے گریز نہ کرے..اس کی بڑی عجیب برکتیں ہیں۔


نوٹ : یہ واقعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی لکھی گئی کتاب "سخی لوگ" سے لیا گیا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے