پہلا واقعہ
یحییٰ بن محمد سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایک قابل اعتماد شخص نے بیان کیا کہ ایک قاضی سے ان کی بیوی نے تقاضا کیا کہ مجھے ایک باندی خرید دیجئے ۔ وہ اس سلسلہ میں بردہ فروشوں میں گئے ۔ جنہوں نے ان کے سامنے چند لڑکیاں پیش کیں ۔ان میں سے ایک کو انہوں نے پسند کر لیا اوراپنی بیوی کو لاکر دکھایا کہ میں اپنے مال سے اس کو تمہارے لیے خرید کر لاؤں گا ۔ اس نے کہا مجھے آپ کے مال کی حاجت نہیں ۔ یہ دینار لیجئے اور اس کو میرے واسطے خرید کے لائیے اور ان کو ایک سود دینار دے دیئے ( بڑی سمجھ دار عورت تھی اپنے شوہر کے الفاظ سن کر ان کی نیت کا اندازہ لگا گئی ) یہ دینار قاضی صاحب نے لے لیے ان کو گھر میں کسی تھیلی میں سر بمہر کر کے الگ رکھ دیا اور جا کر اپنے لیے اپنے مال سے باندی خرید لاۓ اور بیعنامہ بھی اپنے ہی نام لکھایا اور لڑکی کو آہستہ سے بتادیا اور اس کو پوشیدہ رکھنے کی ہدایت کر دی ۔ اب ان کی بیوی اس باندی سے خدمت لیتی رہتی تھی ۔ جب قاضی صاحب کو تنہائی میسر آجاتی تھی تو وہ اس سے ہم بستر ہو لیتے ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ہم بستری کہ وقت قاضی صاحب کی بیوی سر پر آ پہنچی ۔ اس نے کہا اے بد کردار شیخ زانی یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کیا تو خدا سے نہیں ڈرتا ۔ کیا تو ہی مسلمانوں کا قاضی ہے؟ ۔ قاضی نے کہا کہ بد کردار نہیں ہے ۔ رہا زنا کا مسئلہ تو خدا کی پناہ اور اپنے نام کا بیعنامہ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا اور اس کو حیلہ سے آ گاہ کر دیا اور سر بمہر و دینار نکال کر اس کے آگے ڈال دیے اس وقت وہ سمجھی کہ قاضی صاحب نے حرام فعل نہیں کیا اور برابر خوشامدیں کرتی رہی یہاں تک کہ قاضی صاحب نے اس باندی کو فروخت کر دیا ۔
دوسرا واقعہ
ابن الیث سے مروی ہے کہ اہل خراسان میں سے ایک شخص نے مرزبان مجوسی کے ہاتھ ( جو وزیر جعفر کی والدہ کا کارندا تھا ) تیس ہزار درہم میں کچھ اونٹ فروخت کیے وہ ادائیگی قیمت میں ٹال مٹول کرتا رہا اور قیمت نہیں ادا کی وہ عرصہ تک پڑا پریشان ہوکر پڑا رہا اس نے قاضی حفص بن غیاث کے بعض مصاحبوں سے مل کر مشورہ کیا ۔ اس نے کہا کہ اس سے جا کر یہ کہو کہ آپ فی الوقت مجھے ایک ہزار درہم دے دیجئے باقی قیمت کے لیے میں ایک دوسرے شخص کے حق میں حوالہ لکھ دوں گا آپ اس کو جب چاہیں دے دیں پھر میں خراسان چلا جاؤں گا ۔ ایسا کر لینے کے بعد پھر مجھ سے ملو تاکہ پھر مشورہ دوں ۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا وہ مرزبان سے ملا اور اس نے ایک ہزار درہم دے دیئے اس شخص نے واپس آکر اس مشورہ دینے والے کو خبر دی اس نے کہا اب اس کے پاس واپس جا کر یہ کہو کہ جب کل آپ سوار ہو کر جائیں تو راستہ میں قاضی صاحب کی طرف ہوتے جائیں میں وہاں حاضر ہوں گا اور کسی شخص کو اپنی طرف سے مال کی وصولی پر اپنا وکیل بنادوں گا اور پھر چلا جاؤں گا جب مرزبان قاضی صاحب کے پاس آکر بیٹھے تو فوراً قاضی صاحب کے سامنے بقیہ رقم کا دعویٰ پیش کر دینا اس ترکیب سے فوراً ہی فیصلہ ہو جاۓ گا اور مرزبان کو یہ موقع مل نہ سکے گا کہ وہ اپنے اعلی اثر و رسوخ کا استعمال کر کے قاضی صاحب کو فیصلہ روکنے پر مجبور کرے، اس شخص نے ایسا ہی کیا قاضی صاحب نے فوراً اس کو محبوس کر لیا ۔ ام جعفر کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے خلیفہ ہارون الرشید سے کہا کہ تمہارے قاضی نے میرے وکیل کو محبوسں کیا ہے اسکو حکم دے دیجئے کہ وہ فیصلہ ملتوی کر دے ( اور مرزبان کو رہا کر دے ) ہارون نے حکم دے دیا کہ ایسا لکھ دیا جاۓ ۔ قاضی حفص کو بھی اس کی خبر ہوگئی انہوں نے مدعی سے کہا کہ فوراً گواہ حاضر کرو تاکہ امیر المومنین کے مکتوبات کے آنے سے پہلے میں مجوسی کے مقابلہ پر تیرے حق میں فیصلہ لکھ دوں اس نے گواہ حاضر کر دیئے اور قاضی صاحب نے فیصلہ لکھنا شروع کر دیا امیر المؤمنین کا مکتوب لے کر ایک شخص حاضر ہو گیا ۔ قاضی صاحب نے اس شخص سے کہا ٹھرو فیصلہ لکھنے سے فارغ ہو کر مکتوب وصول کر کے پڑھا اور اس خادم سے کہا کہ امیر المؤمنین سے سلام عرض کرو اور خبر دے دو کہ آپ کا مکتوب اس وقت وارد ہوا جب حکم نافذ ہو چکا تھا ۔
نوٹ : یہ واقعات امام ابن جوزی بغدادی رحمہ اللہ کی لکھی گئ کتاب "لطائف علمیہ" سے لیےگئے ہے

0 تبصرے