حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کی عجیب سخاوت حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے وقت کے شاہی پہلوان تھے ... بادشاہ نے اعلان کروا رکھا تھا کہ جو شخص ہمارے پہلوان کو گراۓ گا اس کو بہت زیادہ انعام دیا جاۓ گا ... سادات کے گھرانے کا ایک آدمی بہت کمزور اور غریب تھا نانِ شبینہ کو ترستا تھا اس نے سنا کہ وقت کے بادشاہ کی طرف سے اعلان ہو رہا ہے کہ جو ہمارے پہلوان کو گراۓ گا ہم اسے بہت زیادہ انعام دیں گے ..اس نے سوچا کہ جنید کو رستم زماں کہا جا تا ہے میں اسے گرا تو نہیں سکتا مگر میرے گھر میں غربت بہت زیادہ ہے مجھے پریشانی بھی بہت ہے اور سادات میں سے ہوں اس لیے کسی کے آگے جا کر اپنا حال بھی نہیں کہہ سکتا چلو میں مقابلہ کی کوشش کرتا ہوں ... چنانچہ اس نے جنید سے کشتی لڑنے کا اعلان کر دیا ... وقت کا بادشاہ بہت حیران ہوا کہ اتنے بڑے پہلوان کے مقابلے میں ایک کمزور سا آدمی ... بادشاہ نے اس سے کہا کہ تو شکست کھا جاۓ گا ... اس نے کہا کہ نہیں میں کا میا ب ہو جاؤں گا ...مقابلے کے لیے دن متعین کر دیا گیا، بادشاہ وقت بھی کشتی دیکھنے کے لیے آیا، جب دونوں پہلوالوں نے پنجہ آزمائی شروع کی تو وہ سید صاحب کہنے لگے جنید تو رستمِ زماں ہے تیری بڑی عزت ہے تجھے بادشاہ سے روز ینہ ملتا ہے لیکن دیکھ میں سادات میں سے ہوں غریب ہوں میرے گھر میں اس وقت پریشانی ہے آج اگر تو گر جاۓ گا تو تیری عزت پر وقتی طور پر حرف آئے گا لیکن میری پریشانی دور ہو جائے گی .اس کے بعد اس نے کشتی لڑنا شروع کر دی .. جنید حیران تھے کہ اگر چاہتے تو ہائیں ہاتھ کے ساتھ اس کو نیچے پٹخ سکتے تھے مگر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا واسطہ دیا تھا ... یہ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھی جس سے جنید کا دل پسیج گیا تھا ... دل نے فیصلہ کیا کہ جنید اس وقت عزت کا خیال نہ کرنا تجھے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں عزت مل جاۓ تو تیرے لیے یہی کافی ہے ... چنانچہ تھوڑی دیر پنجہ آزمائی کی اور اس کے بعد جنید خود ہی چِت ہو گئے اور وہ کمزور آدمی ان کے سینے پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے ان کو گرا لیا ... بادشاہ نے کہا نہیں کوئی وجہ بن گئی ہو گی لہذا دوبارہ کشتی کروائی جائے .. چنانچہ دوبارہ کشتی ہوئی جنید خود ہی گر گئے اور اسے اپنے سینے پر بٹھالیا بادشاہ بہت ناراض ہوا اس نے جنید کو بہت زیادہ لعن طعن کی ، حتیٰ کہ اس نے کہا کہ جی چاہتا ہے کہ جوتوں کا ہار تیرے گلے میں ڈال کر پورے شہر میں پھرا دوں تو اتنے کمز ور آدمی سے ہار گیا ... آپ نے وقتی ذلت کو برداشت کرلیا گھر آ کر بتایا تو بیوی بھی پریشان ہوئی اور باقی اہل خانہ بھی پریشان ہوئے کہ تو نے اپنی عزت کو آج خاک میں ملادیا مگر جنید کا دل مطمئن تھا .. اس صفت کی وجہ سے جنید بغدادی بنے ہیں اور اللہ نے ان سے خوب دین کا کام لیا ...

0 تبصرے