مسجد میں ایک مسافر تھکا ہارا پہنچا ۔. وضو کیا نماز پڑھی..اپنا زاد سفر یعنی ایک چھوٹی سی گٹھڑی سرہانے رکھ کر لیٹ گیا ... چند لمحے بھی نہ گزرے تھے کہ نیند نے اسے آ دبوچا ... کافی دیر بعد آنکھ کھلی تو سر کے نیچے سے گٹھڑی غائب تھی . فورًا ہی اٹھ کر بیٹھ گیا . حیران تھا کہ ایسی گہری نیند سویا کہ سر کے نیچے سے گٹھڑی نکالے جانے کا بھی علم نہ ہوسکا .. پریشانی کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس گٹھڑی میں ایک تھیلی بھی تھی جس میں ایک ہزار دینار تھے جو اس کی زندگی بھر کی پونجی تھی. قریب ہی ایک بزرگ ذکر و فکر میں مشغول تھے اس وقت مسجد میں بس یہی ایک بزرگ تھے ... مسافر نے ان ہی کو پکڑ لیا.ان صاحب نے حیرت سے پوچھا .. ’’ بھئی ! کیا بات ہے ؟ ‘‘ مسافر بولا "میرے سرہانے میری گٹھڑی رکھی تھی اور اس میں ایک تھیلی بھی تھی جس میں میری زندگی بھر کی جمع پونجی تھی جب میں نماز پڑھ کر لیٹا تو اس وقت بھی تم اسی جگہ اور اسی طرح بیٹھے تھے اور اب بھی تم اسی جگہ اُسی طرح بیٹھے ہو .. یقینًا تم ہی نے میری گٹھڑی چرائی ہے یا تم جانتے ہو کہ کون میری گٹھڑی لے گیا ہے اس لئے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا "۔ وہ بزرگ بولے بھائی ! میں تو ذکر میں مشغول تھا مجھے نہ تو تمہارے آنے کی خبر ہوئی اور نہ یہ معلوم ہوا کہ تمہارے سرہانے گھڑی تھی اور نہ ہی میں یہ جانتا ہوں کہ یہاں کوئی تیسرا آدمی بھی آیا جو تمہاری گٹھڑی لے گیا .. مسافر نے اس بزرگ کا گربیان ہاتھ میں لیا اور بولا بزرگوں کی سی صورت بنا کر مسافروں کولوٹتا ہے ، میں تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔ اس بزرگ کے سکون و اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا..اس نے نہایت نرم لہجے میں کہا اے مسافر ! ذرا ٹھنڈے دل سے اتنا سوچ کہ اگر میں ہی چور ہوتا تو یہاں کیوں بیٹھا ہوتا گٹھڑی لے کر بھاگ کیوں نہ جاتا ۔۔۔۔ ؟ مسافر بولا میں کچھ نہیں جانتا، میں تو تجھ سے ہی اپنی رقم وصول کروں گا ۔ مسافر کی گرفت اس بزرگ کے گریبان پر اور سخت ہو گئ، بزرگ نے پوچھا اچھا یہ بتا کہ تیری تھیلی میں کتنی رقم تھی ؟ مسافر بولا "ایک ہزار دینار .. ! اچھا میرے ساتھ آ . وہ بزرگ مسافر کو اپنے ساتھ لے گیا اور اپنے گھر سے ایک ہزار دینار لے کر اس کے حوالے کر دیے .. مسافر بولا گٹھڑی میں دینار کے علاوہ میرے کپڑے بھی تھے، اس بزرگ نے سو دینار دیتے ہوۓ کہا، لے یہ سو دینار اور رکھ لے ... اب تو تیرا نقصان پورا ہوگیا ؟ مسافر نے سودینار بھی لے لئے اور خوشی خوشی گیارہ سو دینار لے کر اس جگہ پہنچا جہاں اپنے دوسرے ساتھیوں کو چھوڑ آیا تھا اور سارا ماجرا کہ سنایا ... ساتھیوں نے بیک زبان کہا ارے تمہارے دینار کی تھیلی اور گھڑی تو ہم نے مزاقاً تم سے چرالی تھی ۔ لو یہ رہا تمہارا مکل سامان . وہ اللہ کا بندہ کون تھا ؟ جس نے تمہیں یہ رقم دے دی ، چلو اس کے پاس چلیں ، یقینا وہ اللہ کا کوئی بزرگ بندہ ہوگا ۔ سب کے سب اس بزرگ کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک محفل جمی ہوئی ہے . سینکڑوں افراد ادب و احترام سے سر جھکاۓ بیٹھے ہیں اور وہی بزرگ جو مسجد میں ذکر میں مشغول تھے ، مسند پر بیٹھے ہوۓ ہیں اور بڑے ہی مؤدب انداز میں درس قرآن دے رہے ہیں اور تمام لوگ ہمہ تن گوش تھے .. بزرگ نے قرآنی آیات کی تشریح ایسے دل نشین انداز میں کی کہ لوگ جھوم جھوم اٹھے..کافی دیر تک محفل جاری رہی ... یہ مسافر بھی سننے میں ایسے محو ہوۓ کہ اپنے یہاں آنے کا مقصد تک بھول گئے انہیں یہ تک یاد نہ رہا کہ کہاں سے وہ آۓ تھے ، کیوں آۓ تھے ؟ اور کہاں کھڑے ہیں ؟ وہ تو بس بت بنے کھڑے تھے ... اللہ کا وہ نیک بندہ قرآن سنارہا تھا ، سمجھا رہا تھا اور یہ سن رہے تھے، سمجھ رہے تھے اور اس کی باتیں ان کے دلوں میں گھر کئے جارہی تھیں ... اتنی پیاری باتیں انہوں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں ... پھر اس بزرگ نے دعا مانگنی شروع کی ... دعا میں وہ آہ وزاری شروع کی کہ سب کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں . سارا مجمع دست بہ دعا ہے .. آنکھیں پرنم ہیں ، چہروں پر پشیمانی ہے ... دعا کے اختتام پر سب لوگ دست بوسی کے لئے آگے بڑھے لیکن اس بزرگ نے کسی کو ہاتھ چومنے کی مہلت نہ دی .. اس محفل میں کچھ غریب مفلس لوگ بھی تھے جن کو اس بزرگ نے کچھ دینار بھی دیے، جب ذرا رش کم ہوا تو یہ مسافر بھی آگے بڑھے اور گیارہ سودینار کی تھیلی بزرگ کے قدموں میں رکھ کر کہنے لگے : .. "حضور ! ہم سے بڑی غلطی ہوگئی ہے ... ہمارے ایک ساتھی نے اس کی تھیلی مزاقاً چھپائی تھی یہ سمجھا کہ ( خدانہ کرے ) یہ تھیلی آپ کے پاس ہے تو اس نے گستاخانہ رویہ اختیار کیا ..جس کا ہمیں بہت افسوس ہوا.ہم سب معافی چاہتے ہیں اور آپ کی رقم واپس کرتے ہیں" ۔۔۔۔ بزرگ مسکراۓ اور بولے جو ہوا سو ہوا ، ہم کسی کی غلطی کی پروا نہیں کرتے بلکہ اللہ پاک کی نعمتوں میں غور کرتے ہیں۔ پھروہ بزرگ دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور وہ دینار واپس کر دیئے ... مسافروں نے قریب بیٹھے لوگوں سے دریافت کیا، کہ یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ جعفر صادق( رحمہ اللہ ) ہیں .. مسافر ان کی ہمدردی اور ایثار دیکھ کر ان کی ارادت میں شامل ہو گئے ...
0 تبصرے